بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || دنیا بھر کے فوجی ماہرین بخوبی جانتے ہیں کہ زمینی حملے کی صورت میں جارح امریکیوں کا قتل عام کیا جائے گا لیکن امریکہ بہرحال اس کاروائی پر غور کر رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا امریکہ اس جنگی چال سے نمٹنے کی ایرانی صلاحیت سے بے خبر ہے؟ کیا وہ کچھ اور سوچ رہا ہے؟
دو عوامل اس امریکی سوچ کا باعث ہو سکتے ہیں:
1۔ غلط اندازہ Misculculation
امریکی - اسرائیلی محاذ جنگ کے پہلے دن سے اس غلطی سے دوچار ہے جس کی وجہ موساد کے سربراہ ڈیوڈ بارنیا کا غلط منصوبہ ہے جس نے جنگ سے پہلے ٹرمپ اور نیتن یاہو کو بے وقوف بناتے ہوئے دعوی کیا تھا کہ جنگ کے آغاز اور ایران کی قیادت کے قتل کے ساتھ موساد، "حکومت کے مخالفین!" کو سڑکوں پر لائے گی!
یہ وہ منصوبہ ہے جس نے اس جنگ میں جارح دشمن کو ناکامی سے دوچار کر دیا ہے؛ اسرائیلی فوج کایا پلٹ سے مایوس ہے اور ٹرمپ اپنے اعلان کردہ منصوبے کے باوجود مکر گیا ہے اور کہتا ہے کہ رژیم چینج اس کا منصوبہ تھا ہی نہیں!
یہ وہی غلطی ہے جو زمینی حملے کی صورت میں، دہرائی جائے گی۔
2۔ خودکش کاروائی
امریکی فوج کے درمیانی رینک کے کمانڈروں نے ٹرمپ اور وزیر جنگ ہیگستھ ـ جو ایک شو مین ہے ـ کو زمینی جنگ کے بھاری جانی نقصان کے امکان سے مطلع کا ہوگا لیکن ٹرمپ پھر بھی اس پر اصرار کر رہا ہے۔
ٹرمپ کا پہلا مقصد ایران کے حکومتی نظام کا خاتمہ تھا لیکن اب مکر گیا ہے، دوسرا مقصد ایران کی میزائل اور جوہری صلاحیت کا خاتمہ تھا، لیکن ان دو منصوبوں میں بھی ناکام رہا اور کہا کہ ایران کے ایٹمی اثاثوں تک رسائی ممکن نہیں ہے۔
بعدازاں ٹرمپ نے کہا کہ اس کا مقصد آبنائے ہرمز کو کھول دینا ہے!! حالانکہ آبنائے ہرمز جنگ سے پہلے کھلا تھا لیکن جنگ شروع ہوئی تو ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کر دیا!
بہرحال ٹرمپ کے مقاصد میں یہ تبدیلیاں عالمی سطح پر امریکہ کی تزویراتی شکست پر منتج ہوئیں۔
عالمی مبصرین کہتے ہیں کہ "ٹرمپ ایک مہینے سے جاری جنگ کے بعد اب آبنائے ہرمز کو کھول دینا چاہتا ہے جو جنگ سے پہلے کھلا تھا! لیکن بہر حال وہ اس مقصد کے حصول میں بھی شکست کھا گیا۔
اگر امریکہ حال حاضر میں میدان جنگ چھوڑ دے، اور حتی اگر ٹرمپ فتح کا اعلان بھی کردے اور امریکی میڈیا اس کا بیانیہ مستحکم کرنے کی کوشش بھی کر دے، عالمی رائے عامہ اس کو ناکام سمجھتی ہے۔ زمینی جنگ کا آپشن در حقیقت 'خودکش کاروائی' ہے؛ لیکن ٹرمپ کی ٹیم کہتی ہے کہ ان کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے!
ٹرمپ ٹیم کے ارکان اس آپشن پر عمل کرکے ایک چھوٹی سی ـ حتی کہ عارضی ـ کامیابی حاصل کرنا چاہتے ہیں تاکہ اس کو عیاں و نمایاں کرکے میدان جنگ سے نکل جائیں۔ وہ خطروں اور انتباہات کے باوجود اس آپشن پر غور کر رہے ہیں تاکہ وہ بزعم امریکہ کو اس شرمناک صورت حال سے نکال دیں!
لیکن جس مسئلے کے بارے میں امریکہ کم ہی سوچتا ہے یہ ہے کہ زمینی جنگ کا آغاز ان کے اپنے اختیار میں ہے لیکن اس سے باہر نکلنا، ان کی فوج کی نجات اور امریکہ کے لئے کامیابی کی کوئی صورت نکالنا، ان کے اختیار سے باہر ہے اور اس کا فیصلہ ایرانی فوجیں کریں گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر: علی رضائی
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
امریکی فوج کی زمینی جارحیت کے لئے ایران کی بری فوج کے کچھ انتظامات
آپ کا تبصرہ